اتراکھنڈ۔

بینک ملازمین کی ہڑتال سے تقریباً 300 کروڑ کا لین دین متاثر 

Editor
December 17 2021 Updated: December 17 2021
0 0
بینک ملازمین کی ہڑتال سے تقریباً 300 کروڑ کا لین دین متاثر 

رڑکی یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کی کال پر بینک ملازمین کی دو روزہ ہڑتال شروع ہوگئی۔ ہڑتالی بینک ملازمین نے مظاہرہ کیا اور پرائیویٹ بینک بند کرادیئے۔ روڑکی میں ہڑتال کی وجہ سے تقریباً 300 کروڑ کا لین دین متاثر ہونے کا اندازہ ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے بینکوں کی نجکاری، لیبر لا ترمیمی بل اور مرکز کی بینکنگ پالیسی کے خلاف کئی بینک ملازمین کی تنظیم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کی جانب سے دو روزہ ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔ ہڑتال کے پہلے دن بینک افسران اور ملازمین نے اولڈ ریلوے روڈ پر واقع کینرا بینک برانچ میں مظاہرہ کیا۔ بینک ملازمین لیڈر مانو ماکن، انل اگنی ہوتری، وشال گپتا نے کہا کہ حکومت پبلک سیکٹر کے بینکوں کی مسلسل نجکاری کر رہی ہے۔ اگر ملکی معیشت کی حالت ایسی ہی رہی تو وہ دن دور نہیں جب بینکوں کو دیوالیہ ہونے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر بینک پرائیویٹ ہوجائیں گے تو ایک طرف بینکوں کے افسران اور ملازمین کے مفادات متاثر ہوں گے تو دوسری جانب بینکوں میں موجود صارفین کا پیسہ بھی غیر محفوظ ہوجائے گا۔ ملازمین رہنماؤں نے کہا کہ جس طرح کسانوں کی تحریک کے سامنے حکومت کو جھکنا پڑا، اسی طرح بینک افسران اور ملازمین کی مخالفت کے سامنے بھی حکومت کو جھکنا پڑے گا۔ بینک ملازمین نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر جانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ بینک ملازمین نے پرائیویٹ بینکوں میں جا کر انہیں بند کروا دیا۔ بینک ملازم لیڈر مانو مکین اور وشال گپتا نے کہا کہ روڑکی علاقے میں تقریباً 300 کروڑ کا لین دین متاثر ہوا ہے۔ کیش، چیک کلیئرنس نہیں ہوسکا۔ ہڑتال جمعہ کو بھی جاری رہے گی۔ کچھ اے ٹی ایم بھی بند رہے۔ عملہ کے رہنماؤں نے بتایا کہ دو روزہ ہڑتال میں بینک کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس کی وجہ سے اے ٹی ایم کے لیے بھی کیش جاری نہیں ہوسکا۔

WHAT'S YOUR REACTION?

  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0

COMMENTS